Mr Bashir, his home is in front of Osma's house and whe watched whole operation from the roof of his house and he said that out 3 only one helicopter landed ...
Wednesday, 11 May 2011
Tuesday, 10 May 2011
Monday, 9 May 2011
Sunday, 8 May 2011
Saturday, 7 May 2011
thinking noteabout pakisitan.....
تاریخ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص ایسا بھی گذرا تھا۔جو اپنوں کے ہاتھوں شکست کھا کر تاریخ کے صفحات سے غائب ہو گیا۔وہ بایزید یلدرم تھا۔جس کی شکست و موت پہ اہل مغرب نے ایسا ہی جشن منایا ہوگا جیسا اسامہ کی کی شکست یا شہادت پر منایا ہے۔ یہ ڈرامہ تھا یا حقیقت تھی اس کے متعلق ہم کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ہم امریکی فتح پر بھی جشن منانے سے رہے کہ امریکہ ہمیں میٹھی میٹھی ریوڑیاں تو دیتا ہی نہیں۔جو کچھ دیتا ہے وہ اپنے مطیع اور اطاعت گزاروں کو ہی دیتا ہے۔
جو امریکی مفادات کیلئے ہم غریب و مسکین عوام کو روندتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں اسامہ بن لادن کی شہادت یا ڈرامے کا کوئی دکھ نہیں اگر مرد مومن تھے تو کامیاب ہوئے کہ ، شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔مال ودولت ان کے پاس بہت تھا۔سرخم کر دیتے تو عیش سے گذرتی کسی آرامدہ بستر پر دل کے مرض یا کینسر یا اور کچھ نہیں تو شوگر کے ہاتھوں ہی دم توڑ دیتے۔رہ گئی کشور کشائی تو نام باقی ہے اللہ کا۔
ہمیں دکھ اور بے چینی صرف پاکستان میں امریکی افواج کی کاروائی سے ہے۔وہ بھی پاکستان کی فوجی چھاونی کے دل میں کی گئی۔چاھے پاکستانی افواج کی منظوری سے ہو یا بغیر اجازت کے۔ اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس بندے مار کے صاف نکل گیا۔ پڑوس میں فوجی لحاظ سے پاکستان سے کمزور ملک ہے۔نظریاتی طور پر اہل تشیع ہیں۔ایران کا صدر پھٹی پرانی ڈانگری پہنے ہوتا ہے۔دیکھنے میں پتلا دبلا مخنی سا شخص ہے۔امریکہ سے برسوں کا پنگا ہے۔
ہماری پردیس میں بڑی دفعہ ایرانی مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جاپان میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی۔ ہم نے آج تک شراب و شباب اور حرام گوشت سے ان مسلمانوں کو پر ہیز کرتے نہیں دیکھا۔نماز تو سڑکوں پہ انہیں کبھی پڑھتے دیکھا ہی نہیں۔اور پاکستانی مسلمانوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دس میں سے پانچ تو ہر حال میں نمازی ہوں گے۔کچھ نہیں تو جمعہ اور عید کی نماز تو لازمی پڑھتے ہیں ۔باقی پانچ اگر شراب و شباب کی طرف جاتے بھی ہیں تو خنزیر تو حالت مدہوشی میں بھی کبھی نہیں کھاتے۔حتی کہ ایک دفعہ پاکستانی عیسائی سے ملاقات ہوئی تو وہ بیچارہ پڑھا لکھا ہونے کےباوجود خنزیر نہیں کھاتا تھا۔
تو حیرت ہوتی ہے کہ مسلم ممالک میں فوجی و دفاعی لحاظ سے طاقتور ترین ملک پاکستان میں امریکہ کے ایجنٹ اور امریکی فوج ڈرون حملے کرکے پاکستانی بھی مارتی ہے اور جب موقع ملے زمینی افواج بھی بھیج کر آپریشن بھی کر لیتی ہے۔پڑوسی ایران ہے جس کا صدر انگریزی بھی نہیں بولتا اور نہ ہی مہنگا ترین پینٹ کوٹ اور ٹائی پہنتا ہے۔اس کی زمین پر امریکی اترنے سے کیوں گھبراتے ہیں۔اس کی خود مختاری کو کیوں چیلنج نہیں کرتے۔مسلمانی میں بھی پاکستانیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ ذلت و خواری صرف پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے حصے میں ہی کیوں آرہی ہے؟
مجھے تو صرف عیاش فوجی اعلی افسران اور حکمرانوں کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ان کی عیاشی بھی بھیک سے ہوتی ہے۔اور عوام ایسی بیغیرت ہے کہ انہیں پھر بھی سر پر بیٹھا رکھا ہے۔کھانے کو سسکتے ہیں پشتوں کی پشتیں بھوکی ننگی ہیں لیکن یہ بے غیرت عوام نہ تو حکمران کو آگ لگاتے ہیں نہ ہی اسی کی عیاشی کو۔ حکمران اپنی عیش و عشرت چھوڑنا نہیں چاہتے اور اس عیش و عشرت کیلئے اقوام غیر کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں۔
جس سے بھیک مانگی جائے اور پھر اس سے کہا جائے کہ عزت اور خود مختاری دے!!۔ایسا اس دنیا میں ہونا تو ناممکن ہے۔ایک بھیکاری سے کون خوف کھائے گا؟بھیکاری بھی ایسا کہ جس نے روز روز مانگنا ہوتا ہے۔ایسے بھیکاری کی کیسی عزت؟ سوال کرنے یا بھیک مانگنے کی جس قدر مذمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی مذہب میں کی گئی ہو۔تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب روائیتیں سوال یا بھیک کی مذمت میں احادیث کی مختلف کتب میں نقل کی گئی ہیں نبی اکرم ﷺ جس طرح توحید اور نماز پنجگانہ کو ضروری سمجھتے تھے اسی طرح لوگوں کو سوال سے باز رکھنے میں ہمت عالی مصروف رکھتے تھے۔
معذرت کے ساتھ ایک حدیث نقل کررہا ہوں کہ عبد الرحمن بن عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم آٹھ یا سات آدمی آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم خدا کے رسول سے بیعت نہیں کرتے؟ ہم نے فوراً ہاتھ بڑھایا۔مگر چونکہ ہم چند ہی روز پہلےبیعت کر چکے تھے۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم تو ابھی بیعت کر چکے ہیں۔اب آپﷺ ہم سے کس بات پر بیعت لیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اس بات پر کہ خدا کی عبادت کرو۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔اور احکام الہی بجا لاوء۔ اور پھر آہستہ سے ارشاد فرمایا۔لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔
اس روایت کے بعد عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد لوگوں میں سے جنہوں نے بیعت کی تھی بعض لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ سے سواری کی حالت میں کوڑا گر جاتا تھا تو اس خیال سے کہ یہ کہیں سوال میں داخل نہ ہو کسی راہ چلتے سے اپنا کوڑا نہ مانگتے تھے۔
کسی بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے ہلکی چیز کونسی ہے؟ فرمایا کہ مانگ کر کھانے والی جماعت!۔پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ اسے ہوا کیوں نہیں اٹھا کر لے جاتی۔ فرمایا ؛ ڈرتی ہے کہ مجھ سے بھی کچھ نہ مانگ لے!۔
مانگنے والا ذلیل وخوار ہوتا ہے دینے والے کے نزدیک۔بلکہ جو کوئی اس پر مطلع ہوتا ہے۔وہ بھی اسے ذلیل سمجھتا ہے۔عزت کا جانا ، نظروں سے گرنا ، آبروریزی ، ناملائم باتوں کا برداشت کرنا ۔مجالس میں اس کی طرف اعتنا نہ ہونا ،اور اس کی بات پر کان نہ دھرنا اور اس کے وعظ پند کی تاثیر نہ کرنا۔ یہ سب مانگنے کی بدولت ہوتا ہے۔شرع و عقل و عرف میں روا نہیں ہے کہ انسان اپنے آپ کو ذلیل کرے۔
فقیر کی شان قلندری میں ہے۔اگر فقیر در بدر بھٹکتا پھرتا ہے تو اس میں اور کتے میں فرق ہی کیا ہے۔ فقیر کی شان تو اسی میں ہے کہ فقیر سوال سے مستغنی ہو۔ ایران کے صدر کی پھٹی جیکٹ میں بھی ایک قلندارانہ شان ہے۔صدراحمدی نژاد در در کے دورے بھی نہیں کرتا۔ اس شخص میں نا مردانہ حسن نا مردانہ وجاہت لیکن اس کی خود اعتمادی اور وقارقابل دید ہے۔
گورے چٹے حسن کے بت بھی جب اس کے سامنے جاتے ہیں تو صرف مٹی کے ڈھیر لگتے ہیں۔ وجہ اور کچھ نہیں احمدی نژاد میں سوال نہ کرنے والوں کا وقار ہے۔اس کی عوام ذلیل و خوار نہیں ہے۔اور ہم دربدر بھٹکتے حکمران و عوام جب مانگ کے کھائیں گےتو ایسی ہی ذلت و خواری ملے گی۔
عوام نے اب بھی اپنی روش تبدیل نہ کی تو مستقبل قریب میں اب ڈومور نہیں ہوگا۔
اب صرف حکم ہوگا۔
سیدھا ہو اوئے کھوتے دیا پترا۔
مصنف: یاسر خوامخواہ جاپانی
جو امریکی مفادات کیلئے ہم غریب و مسکین عوام کو روندتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں اسامہ بن لادن کی شہادت یا ڈرامے کا کوئی دکھ نہیں اگر مرد مومن تھے تو کامیاب ہوئے کہ ، شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔مال ودولت ان کے پاس بہت تھا۔سرخم کر دیتے تو عیش سے گذرتی کسی آرامدہ بستر پر دل کے مرض یا کینسر یا اور کچھ نہیں تو شوگر کے ہاتھوں ہی دم توڑ دیتے۔رہ گئی کشور کشائی تو نام باقی ہے اللہ کا۔
ہمیں دکھ اور بے چینی صرف پاکستان میں امریکی افواج کی کاروائی سے ہے۔وہ بھی پاکستان کی فوجی چھاونی کے دل میں کی گئی۔چاھے پاکستانی افواج کی منظوری سے ہو یا بغیر اجازت کے۔ اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس بندے مار کے صاف نکل گیا۔ پڑوس میں فوجی لحاظ سے پاکستان سے کمزور ملک ہے۔نظریاتی طور پر اہل تشیع ہیں۔ایران کا صدر پھٹی پرانی ڈانگری پہنے ہوتا ہے۔دیکھنے میں پتلا دبلا مخنی سا شخص ہے۔امریکہ سے برسوں کا پنگا ہے۔
ہماری پردیس میں بڑی دفعہ ایرانی مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جاپان میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی۔ ہم نے آج تک شراب و شباب اور حرام گوشت سے ان مسلمانوں کو پر ہیز کرتے نہیں دیکھا۔نماز تو سڑکوں پہ انہیں کبھی پڑھتے دیکھا ہی نہیں۔اور پاکستانی مسلمانوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دس میں سے پانچ تو ہر حال میں نمازی ہوں گے۔کچھ نہیں تو جمعہ اور عید کی نماز تو لازمی پڑھتے ہیں ۔باقی پانچ اگر شراب و شباب کی طرف جاتے بھی ہیں تو خنزیر تو حالت مدہوشی میں بھی کبھی نہیں کھاتے۔حتی کہ ایک دفعہ پاکستانی عیسائی سے ملاقات ہوئی تو وہ بیچارہ پڑھا لکھا ہونے کےباوجود خنزیر نہیں کھاتا تھا۔
تو حیرت ہوتی ہے کہ مسلم ممالک میں فوجی و دفاعی لحاظ سے طاقتور ترین ملک پاکستان میں امریکہ کے ایجنٹ اور امریکی فوج ڈرون حملے کرکے پاکستانی بھی مارتی ہے اور جب موقع ملے زمینی افواج بھی بھیج کر آپریشن بھی کر لیتی ہے۔پڑوسی ایران ہے جس کا صدر انگریزی بھی نہیں بولتا اور نہ ہی مہنگا ترین پینٹ کوٹ اور ٹائی پہنتا ہے۔اس کی زمین پر امریکی اترنے سے کیوں گھبراتے ہیں۔اس کی خود مختاری کو کیوں چیلنج نہیں کرتے۔مسلمانی میں بھی پاکستانیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ ذلت و خواری صرف پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے حصے میں ہی کیوں آرہی ہے؟
مجھے تو صرف عیاش فوجی اعلی افسران اور حکمرانوں کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ان کی عیاشی بھی بھیک سے ہوتی ہے۔اور عوام ایسی بیغیرت ہے کہ انہیں پھر بھی سر پر بیٹھا رکھا ہے۔کھانے کو سسکتے ہیں پشتوں کی پشتیں بھوکی ننگی ہیں لیکن یہ بے غیرت عوام نہ تو حکمران کو آگ لگاتے ہیں نہ ہی اسی کی عیاشی کو۔ حکمران اپنی عیش و عشرت چھوڑنا نہیں چاہتے اور اس عیش و عشرت کیلئے اقوام غیر کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں۔
جس سے بھیک مانگی جائے اور پھر اس سے کہا جائے کہ عزت اور خود مختاری دے!!۔ایسا اس دنیا میں ہونا تو ناممکن ہے۔ایک بھیکاری سے کون خوف کھائے گا؟بھیکاری بھی ایسا کہ جس نے روز روز مانگنا ہوتا ہے۔ایسے بھیکاری کی کیسی عزت؟ سوال کرنے یا بھیک مانگنے کی جس قدر مذمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی مذہب میں کی گئی ہو۔تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب روائیتیں سوال یا بھیک کی مذمت میں احادیث کی مختلف کتب میں نقل کی گئی ہیں نبی اکرم ﷺ جس طرح توحید اور نماز پنجگانہ کو ضروری سمجھتے تھے اسی طرح لوگوں کو سوال سے باز رکھنے میں ہمت عالی مصروف رکھتے تھے۔
معذرت کے ساتھ ایک حدیث نقل کررہا ہوں کہ عبد الرحمن بن عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم آٹھ یا سات آدمی آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم خدا کے رسول سے بیعت نہیں کرتے؟ ہم نے فوراً ہاتھ بڑھایا۔مگر چونکہ ہم چند ہی روز پہلےبیعت کر چکے تھے۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم تو ابھی بیعت کر چکے ہیں۔اب آپﷺ ہم سے کس بات پر بیعت لیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اس بات پر کہ خدا کی عبادت کرو۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔اور احکام الہی بجا لاوء۔ اور پھر آہستہ سے ارشاد فرمایا۔لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔
اس روایت کے بعد عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد لوگوں میں سے جنہوں نے بیعت کی تھی بعض لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ سے سواری کی حالت میں کوڑا گر جاتا تھا تو اس خیال سے کہ یہ کہیں سوال میں داخل نہ ہو کسی راہ چلتے سے اپنا کوڑا نہ مانگتے تھے۔
کسی بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے ہلکی چیز کونسی ہے؟ فرمایا کہ مانگ کر کھانے والی جماعت!۔پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ اسے ہوا کیوں نہیں اٹھا کر لے جاتی۔ فرمایا ؛ ڈرتی ہے کہ مجھ سے بھی کچھ نہ مانگ لے!۔
مانگنے والا ذلیل وخوار ہوتا ہے دینے والے کے نزدیک۔بلکہ جو کوئی اس پر مطلع ہوتا ہے۔وہ بھی اسے ذلیل سمجھتا ہے۔عزت کا جانا ، نظروں سے گرنا ، آبروریزی ، ناملائم باتوں کا برداشت کرنا ۔مجالس میں اس کی طرف اعتنا نہ ہونا ،اور اس کی بات پر کان نہ دھرنا اور اس کے وعظ پند کی تاثیر نہ کرنا۔ یہ سب مانگنے کی بدولت ہوتا ہے۔شرع و عقل و عرف میں روا نہیں ہے کہ انسان اپنے آپ کو ذلیل کرے۔
فقیر کی شان قلندری میں ہے۔اگر فقیر در بدر بھٹکتا پھرتا ہے تو اس میں اور کتے میں فرق ہی کیا ہے۔ فقیر کی شان تو اسی میں ہے کہ فقیر سوال سے مستغنی ہو۔ ایران کے صدر کی پھٹی جیکٹ میں بھی ایک قلندارانہ شان ہے۔صدراحمدی نژاد در در کے دورے بھی نہیں کرتا۔ اس شخص میں نا مردانہ حسن نا مردانہ وجاہت لیکن اس کی خود اعتمادی اور وقارقابل دید ہے۔
گورے چٹے حسن کے بت بھی جب اس کے سامنے جاتے ہیں تو صرف مٹی کے ڈھیر لگتے ہیں۔ وجہ اور کچھ نہیں احمدی نژاد میں سوال نہ کرنے والوں کا وقار ہے۔اس کی عوام ذلیل و خوار نہیں ہے۔اور ہم دربدر بھٹکتے حکمران و عوام جب مانگ کے کھائیں گےتو ایسی ہی ذلت و خواری ملے گی۔
عوام نے اب بھی اپنی روش تبدیل نہ کی تو مستقبل قریب میں اب ڈومور نہیں ہوگا۔
اب صرف حکم ہوگا۔
سیدھا ہو اوئے کھوتے دیا پترا۔
مصنف: یاسر خوامخواہ جاپانی
Subscribe to:
Comments (Atom)




